سرچنا نہی!

تلاش کے نتائج

‏بس کر پگلے رلاۓ گا کیا؟ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بس کر پگلے رلاۓ گا کیا؟ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

2016-09-09

سیاسی پیار


مجھے معلوم ہے
یہ تمہاری امی کا ہی دبائو ہے
رینجرز کی تراں

یہ جو تم نے میسج بھیجا ہے ناں
فاروق ستار کی تراں
کہ یہ جو لاتعلقی کی ہے
الطاف حسین کی تراں
میں سب سمجھتا ہوں
یہ دبائو ہی ہے
رینجرز کی تراں

کہ اب میں کچھ ناں کہوں گا
کوئی بات، کوئی کال، نہ کروں گا
الطاف کی تراں
کہ میں انتظار کروں گا
حالات کے سدھرنے کا
متحدہ کی تراں

کہ میں جانتا ہوں
یہ تمہاری امی کا ہی دبائو ہے
رینجرز کی تراں

مشور و ماروف شائے و تجزیہ بھگار رازی کی کتاب "سیاسی پیار" سے اقتباس شدہ آزاد نظم


2014-11-28

فارغان شوشل میڈیا کے نام بند خط

امام البغاوتین جناب عزت ماب رازی اللہ رازی کا

 فارغان شوشل میڈیا کے نام بند خط۔



میرے نہایت ہی عزیز دوستو! خوبصورت سہیلیوں! سڑیل ویلے بزرگوں! اور نہایت نا قابل احترام شوشل میڈیائی دانشوڑان، بلاگڑان، اسکالرز علماء و مشائیخ ٹائیپ تمام توپ چیزوں!


 اسلام و علیکم۔


امید ہے بے ایمانی و بد اخلاقی کی ''پیک'' پر ہوںگے اور ہر دم ملک و ملت کی بدنامی کے لیئے دل و جان سے کوشاں ہونگے۔ 


عزیزان نا محترم! بعد از سلام و بے عزتی (جو آپ نے محسوس نہیں کی) عرض ہے! جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے کہ ناکام عاشقوں کے دلوں کی دھڑکن، کبڑے مجنوؤں کے دل کا چین، بے روزگار پاپیوں کی ادھوری محبت، یعنی ''ماہ دسمبر'' اپنی تمام تر نحوستوں اور رولوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہونے کو ہے۔ ''ماہ دسمبر'' کا زکر چھڑے تو اس ''دسمبری شاعری'' کے پیچھے اپنی جوانیاں برباد کرنے والے نوجوانوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی. وہ نوجوان جنہوں نے اپنی کمائی سے ایزی لوڈ کروا کروا کر اس ''دسمبری شاعری'' کی آبیاری کی. وہ نوجوان جنہوں نے چار چار بھایوں سے ماریں کھائیں مگر اپنے نظریہ ''دسمبری شاعری'' کا سودا نہیں کیا. اس دسمبر سے ہم فارغان کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں کہ ہم میں سے بہت سوں کو کئی کئی پہلی محبتیں اسی ''ماہ دسمبر'' میں ہوئی ہیں۔ شائید آپ میں سے بہت سے لوگ اس ''ماہ دسمبر'' اور ''دسمبری شاعری'' کے رولے کو مجھ سے بہتر جانتے ہوں۔ اور یہ بھی جانتے ہوں کہ شوشل میڈیائی فارغان و عاشقان کی زندگی میں اس ''ماہ دسمبر'' اور دسمبری شاعری'' کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ خصوصا عاشقان فیس بکیان ''دسمبری رولے'' کے لیئے خاص اہتمام کیا کرتے ہیں اور ''دسمبری شاعری'' پوسٹ پوسٹ کہ پوری فیس بک گیلی کردیا کرتے ہیں۔ لہذا بحیثیت ایک فارغ فیس بکی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ آپ کی توجہ ''ماہ دسمبر'' اور اس کی نحوستوں کی جانب مبذول کراؤں۔ اور آپ کو بھی زیادہ سے زیادہ ''دسمبری رولا'' پانے پر اکسا سکوں۔


فارغان محترم! کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم کس طرح روز مرہ کے جھمیلوں میں اپنا شوشل میڈیائی وقت صرف کر رہے ہوتے ہیں؟ شام سے صبح ہوتی ہے، صبح سے شام ہوتی ہے۔ زندگی یوں ہی اپنی، تمام ہوتی ہے۔ ٹکے ٹکے کے فلسفے جھاڑنا، اپنی اپنی ''چولیوں'' کو مولانا رومی، علامہ اقبال، ارسطو، ہٹلر اور نیلسن منڈیلا کے نیم برہنا جامے پہنانا، جمعہ مبارک اور عید مبارک سے لے کر ویلن ٹائین ڈے، کرسمس اور دیوالی تک کی مبارکیں ٹیگ کرنا، سیاسی بتوں کے لیئے زندہ باد و مردہ باد کرنا، گالم گلوچ حتیٰ کہ فیمبلی ممبران تک کو بلاک کردینا، کیا ہم یہی سب کرنے آئے ہیں شوشل میڈیا پہ؟


مجھے جان کر بڑی کمینی سی خوشی ہوئی کہ آپ سب کا جواب اثبات میں ہے۔ کیونکہ شوشل میڈیا وجود ہی اس مقصد کے لیئے آیا ہے۔ تو میرے نہایت ہی نا قابل احترام فارغان شوشل میڈیائی فسادیوں! آپ کے نام میرے اس بند خط کا مقصد بھی آپ سب کو یہ باور کرانا ہے کہ کہیں ہم اپنے مقصد سے ہٹ تو نہیں رہے؟ کہیں ہم اپنا قیمتی وقت شوشل میڈیا پر رولا پانے کے بجائے اپنی پڑھائی، اپنی نوکری یا اپنے کاروبار کو تو نہیں دے رہے؟ کہیں ہم شوشل میڈیائی صفحے مغلظات سے بھرنے کے بجائے اپنی صلاحتیں کسی اصلاحی مقصد کے لیئے تو استعمال نہیں کر رہے؟ کہیں ہم لائیک اور کمنٹس کے پیچھے خچل ہونے اور ایک دوسرے سے بغض رکھنے کے بجائے ان شوشل میڈیائی رابطوں کو کسی فلاحی مقصد کے لیئے استعمال تو نہیں کر رہے؟


اگر آپ واقعی ایسا نہیں کر رہے تو آفرین ہے آپ پہ کہ آپ نے میرا سر فخر سے بلند اور چھاتی تکبر سے چوڑی کردی۔ خوشخبری ہے آپ سب کے لیئے کہ بہت جلد آپ بھی میرے پیچھے اس خوش نما گڑھے میں گرنے والے ہیں جو ہم سب مل بانٹ کر ایک طویل عرصے سے کھودتے آرہے ہیں۔ فارغان کرام! زیادہ سریئس ہونے کی ضرورت نہیں اور اگر خدانخواستہ آپ کے ضمیر کا کوئی اسپئیر پارٹ جاگ گیا ہو تو اسے تھپکی دے کر واپسی سلا دیجیئے، اور میرے ساتھ ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیجیئے کہ اس دسمبر اور اگلا پورا سال بھی ایک نئے جذبے اور جنون کے ساتھ ''کام شام کوئی نہیں، رولا شولا پائے جاو'' کے اصول پر پوری طرح کاربند رہیں گے۔ پوری دیانت کے ساتھ اپنی اور دوسروں کی نیندیں حرام کریں گے۔ اور ملک و ملت کے لیئے ایک بد نما داغ ثابت ہوں گے۔

2014-08-26

ایک اور ڈراپ سین

آج دو ماہ بعد کچھ لکھنے کے لیئے قلم اٹھایا تو قلم نے بھی پوچھ ڈالا آر یو سیریئس؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا مگر قلم پھر بھی اٹھنے سے انکاری رہا۔ ماحول کا اثر تو سب پہ پڑتا ہے نہ بئی۔ میں بولا اٹھ جا بھیا تو کیوں دھرنا دیئے بیٹھا؟ قارئین کرام اس قلم کے جواب نے مجھے وہ سمجھادیا جو بڑے بڑے دانشور اور فلسفی نہ سمجھا سکے قلم بولا ایویں!

اصل میں پچھلے دو ہفتوں سے دھرنوں نے ساری قوم کو جس طرح سے دھرا ہوا ہے اس کا الٹیمیٹلی رزلٹ یہی نکلنا تھا۔ میں خود گزشتہ پندرہ دن سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں۔ صبح دیر سے اٹھتا ہوں تو امی اسے قانون کے منافی قرار دیتی ہیں۔ نہانے میں دس منٹ زیادہ لگادوں تو باہر سے الٹی میٹم آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ کلاس میں دس منٹ لیٹ پونہچوں تو کنٹینر رکھ کہ راستہ بند کردیا جاتا ہے۔ گھر واپس چلا جاؤں تو یوٹرن کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ اور اگر کسی طور مذاکرات کرکہ کلاس میں بیٹھ بھی جاؤں تو ٹیسٹ آگھیرتا ہے۔ اب پہلے تو ٹیسٹ میں دھاندلی کرنا ہی مشکل ہوتا ہے اور اگر دھاندلی کرکہ سات آٹھ نمبر مل جائیں تو کوئی نہ کوئی جیلس اسٹوڈنٹ افضل خان کا کردار نبھانے سامنے آجاتا ہے۔ الغرض یہ کہ زندگی سے مک مکا کرکہ چلنا بھی دشوار کردیا ہے۔

اب اس فتنے کے دور میں بندا فیس بکی کے علاوہ کرے بھی تو کیا کرے۔ دو اسٹیٹس پٹیائی کے خلاف کیا ڈال دیئے پندرہ دن میں چار بریک اپ ہوگئے۔ ٹی وی بھی دیکھیں تو کیا دیکھیں نیوز سن سن کہ کان پک گئے اور دھرنا دیکھ دیکھ کہ آنکھیں اتنی سینچی نہیں جتنی سوجھ گئیں۔ تو آج شام میں نے نیوز کا بائیکاٹ کرکہ ''کچھ اور'' دیکھنے کا سوچا۔ لوگوں سے اکثر سنتا آیا ہوں پوگو دیکھو پوگو! تو سوچا کیوں نہ آج پوگو دیکھ ہی لیا جائے۔ پوگو لگایا تو کیا دیکھتا ہوں ایک چھابڑی نما دکان ہے جس میں لڈو سے بھری برنیاں رکھی ہیں کچھ ہی فاصلے پر بھیم جگو چھٹکی اور ڈھولو اور بھولو کھڑے للچائی ہوئی نظروں سے لڈو تاڑ رہے ہیں۔ ہولے ہولے سب لڈو کی دکان کی طرف بڑھتے ہیں اور جس کے ہاتھ جتنے لڈو لگتے ہیں اینٹھ لیتے ہیں۔ چوری کے بعد ڈھولو اور بھولو کو احساس ہوتا ہے کہ وہ تو بھیم اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے میں بہت کم لڈو چرا پائے اس لیئے وہ فورن اپنے لڈو وہیں پھینک کر شور مچا مچا کر سارے گاؤں کو جمع کرلیتے ہیں اور بھیم اور اس کے ساتھیوں پر چور لٹیرے ڈکیت اور کرپٹ ہونے کے الزامات لگانا شروع کردیتے ہیں۔ اتنا بڑا مجمع دیکھ کر بھیم کی ٹنڈ پر پسینہ آنا فطری تھا بھیم اپنی ٹنڈ سے پسینہ صاف کرتے ہوئے جگو اور چھٹکی سے کہتا ہے ابے لے آپن تو گڑ گئے۔
کیا بھیم اور اس کے ساتھی اس بحران سے نکل پائیں گے؟

کیا ڈھولو اور بھولو کے پیچھے کالیا کا ہاتھ ہے؟

سٹے ٹیونڈ پوگو!

وقفہ ہوتے ہی میں چینل چینج کرتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں ایک سجی سنواری بیگم شیشے کے سامنے کھڑی اپنی زلفیں سنوار رہی ہے۔ اتنے میں ڈور بیل بجتی ہے اور شوہر گھر میں داخل ہوتا ہے۔ دونو ایک صوفے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر شوہر بیوی سے بچوں کے متعلق پوچھتا ہے تو بیوی جواب دیتی ہے کہ خالہ کے گھر گئے ہوئے ہیں۔ شوہر اپنی ٹائی کھولتے ہوئے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولتا ہے تو پھر شروع کریں؟ اور جوابا بیوی بھی مسکرادیتی ہے۔۔

تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ
نہیں رہنے دیں بس سمجھیں کچھ نہیں دیکھتا۔ چینل تبدیل کرکہ پوگو لگاتا ہوں تو سارا منظر ہی بدلا ہوا ہوتا ہے۔ بھیم اور ڈھولو بھولو آپس میں گلے مل رہے ہیں۔ مجمعے میں موجود ہر شخص کے چہرے پر خوشی عیاں ہے۔  بھیم زندہ باد اور ڈھولو بھولو زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ دونوں پر پھول کی پتیاں نچھاور کی جارہی ہیں۔ اور ہولے ہولے مجمع اپنے اپنے گھروں کو واپس جارہا ہے۔ اس قدر ہیپی اینڈنگ دیکھ کر میں حیران و پریشان رہ گیا۔ وقفے سے پہلے تک جو ایک دوسرے کو چور لٹیرا اور کرپٹ کہہ رہے تھے اب باہم شیر و شکر نظر آرہے ہیں۔ آخر دوران وقفہ ایسا کیا سین ہوا جو میں مس کرگیا۔ بی ہائینڈ دا سین ہونے والے اس سین کو شائید میں اور باقی تماشہ دیکھنے والے کبھی نہ دیکھ پائیں۔ اس تماشے کے اسکرپٹ رائیٹر کو شائید ہم کبھی نہ جان پائیں۔ لیکن ایک بات تو حقیقت ہے کہ دوبارہ جب بھی اس قسم کا تماشہ لگایا جائے گا تو ڈھولک پور کی معصوم عوام میں مجمع لگاکر دھرنا دینے والوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔


2014-07-02

لارڈ ماؤنٹ قریشی

پچھلے مہینے ایک صاحب سے ملاقات شیڈولڈ تھی، ملاقات کے لیئے پنھچا تو صاحب نے اس سڑیل گرمی میں بھی انتہائی گرم جوشی سے استقبال کیا۔ لیکن میں نے تو ''صاف انکار'' کردیا کہ میں تو نہیں پینے کا اس گرمی میں چائے۔ بات چلی تو پھر دور تک گئی اور وہ سوال بھی اٹھا جس کا جواب دینے میں مجھے سخت کوفت ہوتی ہے۔ تو جناب کیا مصروفیات ہیں آپ کی آج کل۔ میرا مطلب کیا کرتے ہیں آپ؟ پھر میں نے بھی بغیر لگی لپٹی بتادیا کہ کیا کیا کرتا ہوں میں۔ میری لکھنے کی صلاحیت پر صاحب انتہائی حیران ہوئے ''کہ اتنا فضول کیسے لکھ لیتے ہیں آپ؟'' میں بولا: نہ صرف لکھ لیتا ہوں بلکہ سن بھی لیتا ہوں مگر زیادہ دیر نہیں اب مجھے اجازت دیں۔ جاتے جاتے صاحب نے مجھے کچھ نصیحتیں کیں جن میں سے ایک مجھے یاد رہ گئی۔ صاحب بولے: ماشااللہ آپ بہت ٹیلنٹڈ آدمی ہو اپنا مطالعہ بڑھاؤ نہ صرف اردو بلکہ انگریزی ادب بھی پڑھا کرو۔ یہ انگریزی ادب والی بات ایک دفعہ پہلے بھی میرے ایک فیس بکی دوست کہہ چکے تھے۔ پلو کی عدم دستیابی کے سبب یہ بات مجھے ذہن میں ہی محفوظ کرنی پڑی۔ اور میں وعلیکم اسلام کہہ کر وہاں سے نکل لیا۔ اب انگریزی ادب میں کیا پڑھا جائے یہ خود ایک مسلہ تھا۔ صلاح مشورے کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ انگریزی ادب کے شہرہ آفاق ناول ''دا جیری کارڈلوف اینڈ تھرٹی فائیؤ پنکچرز'' سے شروعات کی جائے۔ ناول مکمل کرتے ہی میں نے اس شاندار ناول کا اردو ترجمہ کرنا شروع کردیا تاکہ ناول کو آپ کے ساتھ بھی شئیر کیا جاسکے۔ لیکن آج بات کرلیتے ہیں ناول کے مصنف، انگریزی ادب کے لیجنڈری رائیٹر ''لارڈ ماؤنٹ قریشی'' کے حالات زندگی کے بارے میں۔


 آپ سب سے پہلے ''انیس سو ڈیڑھ میں'' میں ''برمودا ٹرائی اینگل'' میں اور پھر بعد ازاں ''کیلی فارنیا'' کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ ایک ''بھدی میکسیکن انگریز'' اور آپ کے ایک والد اور ماجد ''نئی کرانچی ساڑے سات نمبر'' کے ایک قریشی خاندان سے بھی تھے۔ ابتدائی تعلیم کیلی فارنیا سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیئے جرمنی چلے گئے جہاں ہٹلر کی حکومت عوام پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی تھی۔ آپ نے ہٹلر حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک ''اب بس بھی کریں نہ'' میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسی دوران بادشاہ وقت کے خلاف بے شمار کالمز، مضامین بلاگ پوسٹس اور نظمیں لکھیں۔ آپ کی نظم ''دز کائینڈ آف دستور، مارننگ ود آؤٹ نور، آئی ڈانٹ ایکسیپٹ آئی ڈانٹ ایکسیپٹ'' نے عوام میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی۔ مئی1945 میں جدوجہد آزادی کی پاداش میں آپ کو پابند سلاسل کردیا گیا۔ ''مورٹل کومبیٹ'' اپنی کتاب ''ٹین بگیسٹ چولیز آف دی ہسٹری'' میں لکھتا کہ جب ''لارڈ ماؤنٹ قریشی'' کو جج کے سامنے پیش کیا گیا اور تمام الزامات ثابت ہوگئے تو جج نے آپ سے آخری خواہش پوچھی تو آپ نے یہ تاریخی الفاظ کہے ''میری جگہ تو لٹک جا''

بلآخر آپ کو پھانسی گھاٹ چڑھا کر امر کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ وقتی طور پر تو آپ ضرور مر گئے مگر ٹھیک پندراں ایپیسوڈ بعد پلاسٹک سرجری کراکہ نئے نام ''وکرم سنگھانیاں'' سے دوبارہ اینٹری مار بیٹھے۔ اس بار آپ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیئے  آموں کی پیٹی میں بم دبا کر آپ کو ہوائی سفر پر روانہ کیا گیا۔ راوی کی بیوہ لکھتی ہے کہ جہاز کے  پرخچے اڑے اور آپ  کے ساتھ ساتھ راوی بھی جہنم واصل ہوگیا۔  آپ کی باقیات کو دفن کرکہ اِحْتِیاطاً اس پر دیوار برلن تعمیر کرانی پڑی۔ ذرائع کے مطابق تادم تحریر آپ مرے ہوئے ہی ہیں۔

2014-05-30

ایکسٹرا کلاس

اس سنڈے میرے ساتھ جو بیتا نہ وہ ہے تو نا قابل بیان مگر کیا کروں بیان کیئے بنا کلیجے کو ٹھنڈک بھی نہیں پڑنی۔ ایک درد ناک ''آب پیتی'' بیان کرنے کی ادنیٰ سی جسارت کر رہا ہوں اگر لغزش کی بورڈ کے باعث کوئی غلطی کوتاہی ہوجائے تو بنا فیل کیئے ہی صرف نظر کر جایئے گا۔ ممکن ہے ایکسائیٹ مینٹ کے مارے کوئی بات ایک کی ڈبل ٹرپل چبل یا چول بھی کر جاؤں مگر آپ نے فیل نہی کرنی اچھا!

 ہاں تو ''کر کرا کہ'' ہوا یوں کہ ہر سنڈے کی طرح اس سنڈے بھی روٹین بہت ہی ٹف تھی یعنی وہی کھانا پینا نہانا دھونا سونا فیس بکنا اور ''ایکسٹرا کلاس''۔ پھر ہوا یوں کہ صبحو صبحو ہماری آنکھ کھل گئی تو نیم مدہوشی کی حالت میں فیس بک کھولی تھوڑا سی چیٹا چاٹی کی پھر ناشتے کی طلب بھی ہوئی دانا کے قول کے عین مطابق صبحو کا ناشتہ حلوہ پوری سے کرکہ اخبار گھول کہ پی کہ نہا دھو کہ قیلولہ کر کہ اور ''کر کرا کہ'' بیدار ہوا تو معلوم پڑا کہ گھڑی کی سوئیاں پانچ بجانے پہ تلی ہوئیں ہیں جو کہ ہماری ''ایکسٹرا کلاس'' کا ٹائیم ہے۔ لو بئی پھر جلدی جلدی پرپل والے لکس سے موں دھویا ترچھی مانگ نکال کہ پف بنائی کالا چشمہ تھوبڑے پہ سجایا اور بائیک اسٹارٹ کرکہ مکینک کی دوکان پہ پونچھا، پونھچھا ہی تھا کہ ''خورشید بیگم پارک'' کے گیٹ پہ کھڑے ''کلاس فیلو'' کی مس کالیں آنا شروع ہوگئیں۔ خیر بڑی مشکل سے ''دادی کی دواؤں'' کی ٹوپی کراکہ پندرا منٹ کی مہلت مانگی۔
 اور کیا اگر موٹر سائیکل کا ''اگلا بریک'' ہی ٹائیٹ نہ ہو تو فائیدہ ایسی ''ایکسٹرا کلاس'' کا۔
 ہاں تو میں یہ کہرا تھا کہ پھر ''کر کرا کہ'' ''خورشید بیگم پارک'' پونچھا اور ایک بیچ پر بیٹھ کے ہم گولا گنڈا کھاتے ہوئے ''موسم کی صورتحال'' پر گفتگو کرنے لگے۔ جیسے ہی ہم ''انتہائی نازک موڑ'' پہ پونچنے لگے تو چیاؤں میاؤں کی آوازیں آنے لگیں پیچھے دیکھا تو دو بچے ہماری طرف نظر جمائے گیند سے ''کیچ کیچ'' کھیلنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ''کیچنگ کیچنگ'' کر رہے ہیں۔ میں نے بچوں کو سمجھا بجھا کہ وہاں سے بھگا تو دیا مگر بچے تو ہوتے ہی من کے سچے ہیں نہ، وہ ہر تھوڑی دیر بعد کسی نہ کسی بہانے سے ہمارے پیچھے آکہ کھڑے ہوجاتے۔
 محمکہ بہبود آبادی والوں کو ''اچھے لفظوں'' میں یاد کرتے ہوئے میں بچوں کی طرف بڑھا تو قدم جیسے رک سے گئے، کیا دیکھتا ہوں کہ بیس پچیس بچوں کا ریوڑ ایک دوسرے سے الجھ رہا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے فضاء میں ایک موٹی سی گالی کی گونج اٹھی اور اگلے ہی لمحے سب بچے آپس میں گتھم گتھا۔




 میں نے پلٹ کر دیکھا تو ''کلاس فیلو'' کی نطریں میری ہی جانب تھیں۔ پتہ نہیں کیوں اس کی آنکھوں میں مجھے ایک عجیب سی چمک نظر آئی اور اسی لمحے دل نے فیصلہ کرلیا کہ بیٹے یہی موقعہ ہے ''سلمان خانی'' دکھانے کا، اللہ کے فضل سے سب ہی بچے ''ہالٖف ٹکٹ'' تھے اس لیئے کسی مزاحمت کا بھی ڈر نہ تھا، میں نے دو چار کی گدیاں گرم کیں اور سب بچوں کو وہاں سے کلٹی کرادیا۔ واپس آکر بینچ پر بیٹھا اور ''سلمان خانی'' ایکشن ڈائیلاگ مارا ابھی رومانٹک ڈائیلاگ کی باری آنے ہی والی تھی کہ میرا ہاتھ جیبوں پر گیا اور جیسے پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی، ہائے اللہ میرا موبائیل اور وائیلیٹ، ''کلاس فیلو'' کو مس کال مارنے کا بولا تو بولی: ''دیکھا اس لیئے کہری تھی صبحو، نہی ڈلوا کہ دیا نہ بیلنس''،

خیر ''کر کرا کہ'' پارک میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو جیسے بچوں کا کال پڑ گیا ہو، گولے گنڈے والے سے بھی ادھار کرنا پڑا۔ حالانکہ مجھے بہت سے شواہد بھی ملے مگر پھر بھی پتہ نہی کیوں دل کہتا ہے کہ ''وہ ایسی نہیں''، بس جی اللہ بہتر جانتا موبائیل چاہیئے تھا تو موں سے مانگ لیتے میں نے بھی تو منع ہی کرنا تھا نہ مگر یہ کیا کہ کسی کو موں دکھانے لائیق نہیں چھوڑا! کیا بتاؤں گا میں دنیا والوں کو کہ بچے چھین گئے میرا موبائیل بقول شاعر: ''ہمیں تو بچوں نے لوٹا بڑوں میں کہاں دم تھا''، خیر! آپ کو تو پتہ ہے میں شوخا بندا تو ہوں نہیں کہ فورن اسٹیٹس ڈال دوں ''موبائل ہیز کڈ نیپڈ '' اور سچی بات تو یہ غم موبائیل کا نہیں بلکہ ان 63 لمبرز کا ہے جو میری عمر بھر کی پونجی اور سرمایہ حیات تھے۔ 

بقول شاعر:
''سیکنڈوں میں میرے دست کشادہ سے ضائیع ہوئے
وہ عمر بھر کی محنت سے نکلوائے ہوئے لمبرز''

2014-04-19

میری پہلی محبت

کیوں میں ہی کیوں؟ آخر میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے ایسا؟ زندگی میں جس کو ٹوٹ کر چاہا سالا اسی نے دھوکہ دیا۔ اب تو اعتبار ہی اٹھ گیا زندگی سے۔ ساحل کنارے چائینا کے موبائیل سے تیز آواز میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے گانے چلائے ''لڑکا'' کافی فلمی فلمی محسوس کر رہا تھا۔ پیچھے بینچ پر بیٹھا دوست مفتے کی ''کول ڈرینکیں''سوت رہا تھا اور ''لڑکا'' اپنے غموں کو ''گولڈ لیف'' کے دھوئیں میں اڑاتے ہوئے اپنی پہلی محبت کی ناکامی کا قصہ سنا رہا تھا۔

''لڑکا'' آج کافی اداس تھا۔ یہ اداسی بے سبب نہ تھی، بلکہ اس اداسی کی وجہ صبح صبح موصول ہونے والا وہ شادی کارڈ تھا جس میں لڑکے کو اس کی پہلی محبت کی شادی کی دعوت دی گئی تھی۔ کارڈ پر اپنی پہلی محبت کا نام اس کی سرگودھے والی پھوپی کے لڑکے کے ساتھ پڑھ کر ''لڑکے'' کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور دل کی چوبیس کلو میٹر اتھاہ گہرائیوں سے اک درد ناک آہ نکلی۔ کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں لیکن ذلیل زمین پر ہی آکہ ہوتے ہیں۔ ''لڑکے'' کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا تھا۔ اس اچانک ملنے والے صدمہ بے پناہ کا فوری اثر عشق کے ہاتھوں تباہ شدہ بچے کچھے دماغ پر ہوا اور اسکا ذہن پلک جپکھتے ہی ریورس گیئر لگا کہ بیک گراؤنڈ پہ ''وہ پہلی بار جب ہم ملے'' والا گانا چلا کہ زندگی کے سب سے دردناک خوشگوار واقع میں کھوگیا۔

اسے اچھی طرح یاد تھا کالج کا وہ پہلا دن جب کلاس کی آٹھ لڑکیوں میں سے اسے صرف پانچ اچھی لگیں۔ لیکن نیلے پرنٹ والا لیلن کا سوٹ پہنے ''دردانہ'' اسے پہلی ہی نظر میں بھا گئی۔ ''دردانہ'' کو دیکھتے ہی اس کے دل میں گھنٹی بجنا شروع ہوگئی ٹن ٹن ٹن۔ ''دردانہ'' لیکچر کے دوران لکھتے لکھتے اچانک سر اٹھاتی بال پین
سے اپنا سر کجھاتی اور ہلکا سا مسکرا کر واپس لکھنے لگ جاتی۔۔ وہ ساری زندگی اسی شش و پنج میں رہا کہ ایسا وہ اسے انسپائیر کرنے کے لیئے کرتی تھی یا پھر اسے جوئیں تنگ کرتی تھیں۔ وہ ناک سڑ سڑ کر کہ انگلی سے پونچنا، وہ چیونگم کھا کہ غبارے پھاڑنا، گویا ''دردانہ'' کی ہر ادا ہی اس دل میں ایک نشتر چھبھا جاتی۔ شروع میں تو وہ پینسل اسکیل لینے دینے کے بہانے اس سے بات کرتا لیکن پھر جلد ہی ان کی دوستی ہوگئی اور یہ دوستی کب پیار میں بدل گئی معلوم ہی نہ ہوا۔ سال کا وہ آخری دن بھی آن پونھچھا یعنی فیورل پارٹی جس میں سب ہی نے خوب انجوائے کیا اور ان دونوں نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں۔۔ ''دردانہ'' تو امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہوگئی لیکن وہ دس بارہ نمبروں کے فرق سے چار مضامین میں فیل ہوگیا۔ کلاسز کا دوبارہ آغاز ہوا تو وہ اپنی پہلی محبت کو خود سے ایک کلاس دور پاکر کافی ہرٹ ہوا۔ نئے کلاس فیلوز میں لڑکیوں کی تعداد پچھلے سال سے بھی کم یعنی صرف تین تھی اس لیئے ''بے عزت افزائی'' کا بھی کوئی خاص خوف نہ تھا اور ویسے بھی اس کے حوش و حواس پر تو صرف اس کی پہلی محبت کا خمار چھایا ہوا تھا۔ کلاسیں الگ الگ ہوجانے کی وجہ سے ان کی ملاقاتیں کم ہی ہوتی تھیں اس لیئے اب انہوں نے قائید اعظم کے مزار اور سفاری پارک وغیرہ جانا شروع کردیا تھا اور .اور یوں ایک اور سال بھی نکل گیا۔ 

اس سال امتحانات کا نتیجہ آیا تو وہ صرف تین مضامین میں فیل ہوا تھا اور ''دردانہ'' ایک بار پھر اچھے نمبروں سے پاس ہوگئی۔ اس کا دکھ شدید ہوگیا تھا کیوں کہ ''دردانہ'' اب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے رہی تھی اور وہ اسی کلاس میں تھا۔ اسے کیوں کہ دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے کا سلیقہ آتا تھا اس لیئے وہ یہ زہر کا گھونٹ بھی پی گیا۔ گریجویشن کرنے کے بعد ''دردانہ'' نے پڑھائی چھوڑ دی معلوم کرنے پر پتا چلا کہ دردانہ کے لیئے رشتہ آیا ہے۔ اس نے دردانہ سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر کوئی رابطہ نہ ہوا۔

''لڑکے'' کا حافظہ واپسی ''نیوٹرل گئیر'' پر آیا اور اس بار بیک گراؤنڈ میں ''دل میرا توڑ دیا اس نے برا کیوں مانوں'' والا گانا چل رہا تھا۔ شادی کا کارڈ دیکھ کر ''لڑکے'' کی پریشانی دوگنی ہوگئی تھی۔ ایک تو پہلے ہی گیارہویں جماعت کے امتحانوں کی ٹینشن اور اب یہ ''پہلی محبت کی شادی''۔ گویا اب جینے کا مقصد ہی ختم ہوگیا ''لڑکے'' نے دوست کو فون کیا اور اس کے ساتھ ساحل سمندر پر جانے کو کہا۔

اور اب وہی دوست مفتے کی ''کول ڈرینکیں'' سوتتے ہوئے اسے ہمدردانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اور وہ گولڈ لیف'' کے دھوئیں میں اپنے غم کو اڑاتے ہوۓ اسے اپنی پہلی محبت کی ناکامی کا قصہ سنا رہا تھا۔ اچانک ایک سریلی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی .اسے نے پلٹ کر دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا ایک دوشیزہ فیشن کے نام پر ویلڈروں والے گلاسیز لگاۓ کھڑی تھی۔


لڑکا: جی فرمائیں۔
لڑکی: کہیں آپ وہ تو نہیں؟ 
لڑکا؛ جی میں وہی ہوں لیکن آپ کون؟ 
لڑکی: ارے میں وہ۔ 
لڑکا: اوہ تو آپ وہ ہیں۔

لڑکے کے دل میں ایک بار پھر گھنٹی بجنے لگی ٹن ٹن ٹن۔

لڑکی: تو آپ کیا کر رہے ہیں آج کل؟ 
لڑکا: میں کنڈر گارڈن کالج میں۔ ۔ ۔ ۔
لڑکی: اس کی بات کاٹتے ہوۓ اچھا تو آپ لیکچرار ہیں کنڈر گارڈن کالج میں 
لڑکا: جی جی! 

لڑکی: میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ہم دوبارہ مل بھی پائیں گے۔ 
لڑکا: وہ کہتے ہیں نہ اگر کسی کو سچے دل سے چاہو تو ساری کائینات تمہیں اس سے ملانے میں لگ جاتی ہے۔

لڑکی: تم اب تک امی سے ڈرتے ہو؟ 
لڑکا: جان لٹانے والی نظروں سے چلو نہ جھولوں کی طرف چلتے ہیں

کافی دیر پیار بھری باتیں کرنے کے بعد وہ اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کہ وہاں سے چلا آیا۔ اس اچانک ہونے والی ملاقات سے وہ بہت خوش تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ آخر اسے اس کی پہلی محبت جو مل چکی تھی۔ جی ہاں پہلی محبت اس ملاقات کے بعد اسے احساس ہوا کہ در حقیقت اس کی پہلی محبت گیارہویں جماعت کی کلاس فیلو ''دردانہ'' تھی ہی نہیں۔ بلکہ اس کی پہلی محبت تو ساتویں جماعت کی کلاس فیلو ''انوری'' ہے جس سے کچھ دیر پہلے ہی ملاقات کر کہ وہ گھر پونھچا تھا۔ لڑکے کی خوشی اتنی شدید تھی کہ اب وہ اسے لفظوں میں پرونا چاہتا تھا۔

شششش ''لڑکا'' پوسٹ لکھ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔

2014-04-13

رئیل سے فیک تک: ایک دل دہلا دینے والی کہانی



پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور اس بھی آگے گلف ریاستوں خصوصا قطر، دبئی، ابو ظہبی اور اس سے بھی آگے مڈل ایسٹ خصوصا ترکی، مصر، شام اور اس سے بھی آگے یورپ خصوصا برطانیہ، اٹلی، فرانس اور اس بھی آگے تمام سیارے خصوصا مارس، جوپیٹر، نیپچون پر موجود میرے قارئین بشمول ایلئینز اوطار اور چاند پر موجود آرم اسٹرانگ کی باقیات کو میرا سلام۔ تو دیویوں اور سنجنوں اور لیڈیزوں اور جینٹل مینوں اور خواتینوں اور حضراتوں اور اگر کوئی ''تیسری قوت'' بھی موجود ہو تو کچھ عرض کرنے سے پہلے میں عرض کردوں کہ پوسٹ پڑھنے سے پہلے چند ہدایات نوٹ فرمالیں.

 1- قارئین کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا انتہائی ضروری ہے ورنہ پھر سوچ لو۔
 2-تمام کردار فرضی ہیں ماسوائے میری فیک آئی ڈیز کے کیوں کہ وہ بلکل اوریجنل ہیں۔
 3-پوسٹ پڑھتے ہوئے اگر کسی بھی قاری یا قاریہ کو کسی بھی قسم کی خارش محسوس ہو تو پیشگی معذرت وصول فرما کر رسید مجھے کوریئر کردیں۔ آپ کی عین نوازش ہوگی۔

 قارئین کرام اکثر مجھ سے انباکس میں میری فیک آئی ڈیز کے متعلق سوالات کیئے جاتے ہیں، طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں اور موقع محل کے حساب سے طعنے بھی دیئے جاتے ہیں تو سوچا کیوں نہ ایک بار ہی ''ایک بالے جرم'' کرلیا جائے۔ مجھے آج بھی یاد ہے  مئی 2011 کی وہ دوپہر جب میں نے اپنی نیوز فیڈ میں ایک زنانہ آئی ڈی کے ''گڈ مارننگ'' کے اسٹے ٹس پہ 432 لائیکس اور ''سیم ٹو یو'' 258 کمنٹس دیکھے۔ یہ دیکھ کر میری عقل دنگ رہ گئی۔ میں نے اس زنانہ آئی ڈی کی ٹائیم لائین چیک کی تو میری حیرانگی کی حد نہی رہی۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی خالی چھینک مار کر ہی 521 لائیکس اور ''گیٹ ویل سون'' کے 272 کمنٹس بھی لے سکتا ہے۔ میں ایک طرف اس زنانی ٹائیم لائین کو دیکھ رہا تھا تو دوسری طرف اپنی ٹائیم لائین کو جس پر غالب اور میر کے عمدہ شعر پوسٹ ہونے کے باوجود چالیس سال سے زائید عمر کے مرد حضرات کے صرف تین لائیکس تھے۔ مجھ پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہوگئی میرے حواس میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے اور ہاتھ پاؤں بھی سرد پڑ گئے۔  فرسٹیشن کے مارے اس رات مجھے نیند بھی نہیں آئی میں کروٹیں بدلتا رہا میرا احساس کمتری اپنے عروج پر پونہچ گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ غربت اگر انقلاب برپا نہ کرے تو جرائیم پیدا کرتی ہے۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا اور میں نے بھی ایک عدد فیک آئی ڈی بنانے کی ٹھان لی۔ صبح ہوتے ہی میں نے ایک ''پرنسز'' والی ائی ڈی بنائی جس کے کور پر بلی کو گود میں لیئے لڑکی کی تصویر لگائی، ڈی پی حسب معمول سرکٹی لگائی اور ریلیشن شپ اسٹے ٹس میں ''اٹس کامپلی کیٹڈ'' کو پسند کیا۔

اگلا مرحلہ ایڈ فرینڈز کا تھا جو میں نے بذریعہ ''دھڑا دھڑ'' بخوبی انجام دیا۔ کچھ ہی دنوں میں مجھے فیک آئی ڈی کے ثمرات حاصل ہونے لگے۔ ان باکس میں ''اول آج کیا کھایا میلی بےبی نے'' ''اول آج کیا پہنا شونا نے'' ٹائیپ پیغامات موصول ہونے لگے۔ ہنسنے، رونے، کھانے، پینے حتیٰ کہ دھونے پر بھی سینکڑوں لائیکس ملنے لگے جو میرے قلبی و روحانی سکون کا باعث بنتے۔ پھر ایک دن میری دوستی معروف بزنس مین چودھری صاحب سے ہوگئی جنہیں میں ''چ'' صاحب لکھوں گا۔ رفتہ رفتہ دوستی ٹھرک میں بدلنے لگی اور بات کورٹ میرج کی آفر تک آن پونہچی۔ پہلے پہل تو میں ''شریر کہیں کے'' کہہ کر ٹالتا رہا۔ پھر ایک سیٹر ڈے نائیٹ کو مجھے نائیٹ پیکج کراکہ ایک دوست کو ایمرجنسی کال کرنی پڑی تو معلوم ہوا کہ بیلنس تمام شد۔ غربت ایک بار پھر آڑے آئی، میرے تخیل نے اڑان بھری تو میں نے وطن کی مٹی کو گواہ بناتے ہوئے کہا ''اے پاک مٹی گواہ رہنا میں شوقین ہرگز نہ تھا مگر مجبوری'' اور پھر میں نے ''چ'' صاحب سے بطور ضمانت دو جاز کے کارڈز کا مطالبہ کردیا۔ خلاف توقع ''چ'' صاحب نہایت ہی ''سخی'' ''غنی'' فراخدل'' اور ''چول'' نکلے اور انہوں نے دو کی جگہ پانچ کارڈز عنایت فرمادیئے۔ اس دن میں نے فیک آئی ڈیز کے گورکھ دھندے کو بطور پروفیشن اپنانے کا سوچا اور پھر میں اس دلدل میں پھنستا ہی چلا گیا۔ 

 آج میرے پاس پرنسز، پرنس، شہزادہ، شہزادی، انجانہ، انجانی، انوسینٹ، باربی، ٹائپ باراہ فیک آئی ڈیز موجود ہیں۔  فیک آئی ڈیز کے معاملے میں میں نہ صرف خود کفیل ہوچکا ہوں بلکہ انہیں برآمد بھی کرنے لگا ہوں ضرورت مند خواتین و حضرات انباکس میں رابطہ فرمائیں۔ شکریہ

2014-03-21

ایک بشارتی خواب اور فیصلہ آپ کا

کل رات میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ دیکھتا ہوں ایک شیطانی چہرے والے بزرگ میری طرف چلتے ہوئے آرہے ہیں۔ بزرگ نے قریب آکر مجھے سلام کیا۔ میں نے جواب دیا تو بزرگ گویا ہوئے ''آپ وہی ہیں نہ جو چوبیس گھنٹے فیس بک پر ''لچر پن'' کرتے رہتے ہیں؟''۔ میں نے کہا ''جی بابا جی میں وہی ہوں لیکن آپ کو کیسے معلوم آپ تو میرے پاس ایڈ نہیں ہیں''۔ بابا جی مجھے دیکھ کر مسکرائے پھر پان کی پچکاری مارتے ہوئے بولے ''بیٹے کل ان باکس میں جس سر کٹی ڈی پی کی تعریفیں کر رہا تھا نہ تو وہ میں ہی ہوں''۔ میں بابا جی کا جواب سن کر ششدر رہ گیا۔ پھر بابا جی نے مجھے ایک کاغذ کا ٹکڑا دیا اور کہنے لگے ''اس کاغذ میں دنیا والوں کے لیئے ایک سبق آموز کہانی ہے۔ میں نے کہا لیکن بابا جی یہ آپ مجھے کیوں دے رہے ہیں۔ بابا جی گویا ہوئے تو فیس بک پر اتنا گند ڈالتا ہے ایک میری کہانی نہیں ڈال سکتا؟ وعدہ کر تو میرا یہ کام کرے گا''۔ یہ کہہ کر بابا جی ہچکیاں لینے لگے اور وہیں پر لمبے ہوگئے۔ اب مجھے اپنے گلے صاف صاف مڈر کیس پڑتا نظر آرہا تھا لہذٰا میں نے فوری طور پر چنگ چی پکڑا اور وہاں سے کٹ لیا۔

آنکھ کھلنے پر میں نے سب سے پہلے پہلے اس سر کٹی ڈی پی والی بچی کو انفرینڈ کیا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ خوام خواہی کی بلی سے بچ گیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میری نظر اپنے بستر پر پڑی جہاں وہی کاغذ پڑا تھا جو خواب میں مجھے بزرگ نے دیا تھا۔ خوف کے مارے میرا حلق خشک ہوگیا تھا مگر پھر بھی میں نے ہمت کر کہ وہ کاغذ کھولا اور اس میں لکھی تحریر پڑھنے لگا۔ کاغذ کے اپر رائیٹ سائیڈ پر سی ڈبلیو (کلاس ورک) بیچ میں 786  (بسم اللہ) اور اپر لیفٹ سائیڈ پر ڈیٹ (ڈیٹ سے مراد تاریخ) ڈلی ہوئی تھی۔ قاریئن کی دلچسپی کے لیئے میں تحریر بھی پوسٹ دیتا ہوں۔۔ لیکن کمزور دل اور کمزور جگر کے افراد نہ پڑھیں۔

''راہول اور انجلی ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے ۔ راہول ایک ہینڈسم ہکلا اور مست مولا لڑکا تھا اور انجلی ایک لڑکے نما لڑکی تھی۔ لڑکوں جیسے ہی شوق رکھتی ہے۔ انجلی کے شوق کا عالم یہ تھا کہ پیچھے سے دیکھیں تو فخر امام اور آگے سے دیکھیں تو جسٹن بیبر لگتی تھی۔ انجلی اور راہول دونوں بہت اچھے دوست تھے۔ راہول انتہائی ٹھرکی واقع ہوا تھا اور کالج کی لڑکیوں کے پیچھے بھاگتا رہتا تھا۔ انجلی کو راہول کی اس طرح کی حرکتیں بلکل پسند نہیں تھیں۔ راہول انتہائی درجے کا (اب کیا بولوں میں) اس کی نگاہ بلند سخن دل نوازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے اپنے ہی کالج کے پرنسپل کی      بیٹی ٹینا سے پیار ہو جاتا ہے۔ راہول کو ٹینا کے ساتھ دیکھ کر اںجلی کو جلن ہونے لگتی ہے اور تب انجلی رئیل لائیز کرتی ہے کہ اسے بھی راہول سے پیار ہے۔ راہول کا نشانہ بلکل سہی لگتا ہے اور ٹینا بھی راہول سے پیار کرنے لگتی ہے۔ لیکن اسی درمیان ٹینا کو احساس ہوتاہے کہ انجلی بھی راہول سے پیار کرتی ہے۔ یعنی کہ اسٹوری اب برمودہ ٹرائی اینگل کی شکل دھار لیتی ہے۔ انجلی اسٹار پلس دیکھ دیکھ کہ پاروتی پن سیکھ چکی ہوتی ہے۔ اس لیئے کالج چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ اس سے پہلے کہ راہول کی حالت دھوبی کے کتے والی ہوتی وہ ٹینا سے شادی کر لیتا ہے۔ تھوڑی دیر وقت کا پہیہ چلتا ہے اور پھر کیمرہ دوبارہ آن ہوجاتا ہے۔ راہول اور ٹینا کی ایک بیٹی ہوتی ہے جس کا نام وہ انجلی رکھتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اب راہول اور ٹینا ہنسی خوشی رہتے مگر تین گھنٹے بھی تو پورے کرنے تھے اس لیئے کہانی میں ٹوئیسٹ یہ ہوتا ہے کہ ٹینا   کو موت پڑ جاتی ہے۔ ٹینا مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کے لئے اس کی ہر سالگرہ کے لیئے ایک خط تحفے میں چھوڑ کر جاتی ہے۔ خط میں انجلی کو اس کے ابے اور اس کی چھوٹی امی اںجلی کے سارے کرتوت کھول کھول کر بیان کیئے ہوتے ہیں۔ اوتار نما بچی اںجلی 8 سال کی ہونے پر اپنے ابے اور بڑی انجلی کے سارے کرتوت حفظ کر چکی ہوتی ہے۔ بچی کی مری ہوئی ماں کا ایک ہی خواب تھا - راہول اور انجلی کو پھر سے ملانا ۔ بچی قسم کھاتی ہے کی وہ اپنی ماں کی سوتن لانے تک چین سے نہیں ناچے گی۔  ابے کو اںجلی سے ملانے کے لیئے وہ اںجلی کی تلاش شروع کر دیتی ہے۔ اسے انجلی مل تو جاتی ہے مگر تب تک اںجلی کی منگنی امن سے ہو چکی ہوتی ہے''۔

کیا بچی اپنے ابے کو اس کی بچی سے ملا پائے گی؟
پڑھیئے اگلی پوسٹ میں



نوٹ- ایک شخص نے اس پوسٹ پر ''کچھ کچھ ہوتا ہے'' کی اسٹوری کا الزام لگایا    اگلے ہی دن اس کا بریک اپ ہوگیا۔
 ایک انٹی نے اس پوسٹ کو لائیک کر کہ ''ویری نائیس'' کا کمنٹ کیا تو ان کے شوہر کا معاشقہ پکڑا گیا۔
اور ایک شخص نے اس پوسٹ کو شیئر کیا تو اسکی پچاس ہزار کی لاٹری لگ گئی۔  


فیصلہ آپ کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

2014-03-10

دانش مندی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روائیتی ''کاپی پیسٹنگ'' کے سلسلے میں میں کچھ ''دانش مندوں'' کی ''پروفائیلیں'' وزٹ کر رہا تھا کہ اسی دوران میرے دل میں بھی ''دانش مند'' بننے کی چاہ پیدا ہوئی۔ اگر چہ زندگی کی سولاں بہاریں گزار چکا تھا اور اس عرصے میں ''دانش مندی'' مجھ سے 50 مربع کلو میٹر دور ہی رہی تھی مگر پھر بھی میں نے اپنی ''ول پاور'' پہ اندھا اعتماد کرتے ہوئے ''دانش مند'' بننے کی ٹھان لی۔ ''دانش مندی'' کی ابتدائی تعلیم تو میں اپنے پہلے استاد ''ڈی ڈی'' سے حاصل کر ہی چکا تھا۔ ''ڈی ڈی'' کا تعارف یہ کہ وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں، بلکہ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ وہ اس قابل بھی نہیں۔ ''ڈی ڈی'' ہمیشہ مجھے ایک لاطینی مقولہ سنایا کرتا تھا ''میں آپ بڑا کنجر ہوں''۔ پہلے پہل تو میں اس مقولے کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ مگر ''ڈی ڈی'' کی جانب سے  ناقابل برداشتی خواہ مخواہی انفرینڈ ہونے کے بعد یہ مقولہ کافی معقول محسوس ہوا۔ خیر دنیا کی موٹریں تو چلتی رہتی ہیں اور پانی یہاں وہاں ہوتا رہتا ہے۔ ''دانش مندی'' کی سیکنڈری تعلیم میں نے اپنے نمبر 2 استاد ''بی پی'' سے حاصل کی۔ ''بی پی'' کا تعارف یہ کہ وہ حساب کتاب کے حساب سے میرے دو نمبری جبکہ دکھنے میں چنگے بھلے ایک نمبری بندے ہیں۔ اس سے زیادہ ان کا تعارف بنتا تو نہیں ہے مگر پھر بھی بتادوں آپ ماہر ''بی پی ازم'' بھی ہیں۔ ''بی پی'' میرے بارے میں کہا کرتے تھے '' تیرے سبجیکٹس جان ویلیائی، ڈفریات اور بی پی ازم ہیں، دانش مندی سے دور ہی رہا کر"۔
''دانش مندی'' کی اعلیٰ تعلیم کے لیئے میں نے ''گورنمنٹ کالا پیلا کالج برائے خواتین وحضرات'' میں داخلہ لیا تو وہاں میرا سامنا اردو والی ''مس فرخندہ'' اور اردو ایڈوانس والے ''سر مستقیم'' سے ہوا۔ ''سر مستقیم'' کے لیئے ٹکر جانا پڑھا جائے۔ مس فرخندہ کا تعارف یہ کہ وہ ٹیچری کرنے کا شوق رکھتی ہیں اور خوش قسمتی نما بدقسمتی سے ٹیچری کر بھی لیتی ہیں۔ اب تک یہ جتنی دعا نما  بدعائیں لے چکی ہیں امید بھرا خدشہ ہے کہ جلد ہی پیپلز پارٹی جوائن کرکے خوار ہونگی۔ جبکہ اردو ایڈوانس والے ''سر مستقیم'' پاٹ ٹایئم آستانہ بھی چلاتے ہیں۔ آپ کی انہی حرکتوں کے اعتراف میں ''بنانا ریپبلک'' نے آپ کو ''باباجی'' کے خطاب سے بھی نوازا ہے۔ ''باباجی'' انتہائی محنتی اور چپکو، شفیق اور پکاؤ، رحم دل اور خشک استاد ہیں۔ یہاں ہمارے کالج کے ایک نالائیق استاد کا ذکر بھی ضروری ہے۔ بتادوں؟ بتادوں؟ جاؤ بخشا۔
اپنی خداداد صلاحیتوں، اپنے سچے والے جذبے جنون ہمت و لگن، اور اپنی ہی انتھک محنتوں کی بدولت میں دانش مندی کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں۔ اور ہمیشہ کی طرح کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے اس کا کریڈٹ بھی بوقت ضرورت اپنی اوقات دکھا  دینے والے دوستوں اور نالائیق استادوں کے سر ڈال دیتا ہوں۔ دانش مندی اور مجھ میں اب صرف اتنا ہی فاصلہ رہ گیا ہے جتنا کہ پاکستان اور خوشحالی میں پولیس اور ایمانداری میں یا پھر قائم علی شاہ اور اور جوانی میں۔

ٹو بی کنٹی نیوڈ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

2014-02-21

فراز کی شاعری (اردو شاعری کا بلاتکاری ورژن)

''فراز صاحب سے معذرت کے ساتھ ان کے نام پر اردو شاعری کا بلتکار کرنے والے بلتکاریوں کے نام''


تو دیویوں اور سنجنوں دل تھام کر بیٹھیئے گا۔ کیوں کہ آج ہم پیش کریں گے اردو شاعری کا ''بلاتکاری ورژن''۔ جی ہاں جسے عرف عام میں ''فراز کی شاعری'' بھی کہا جاتا ہے۔ آیئے سب سے پہلے ہم ''فراز کی شاعری'' کی تعریف جان لیتے ہیں۔

تعریف


کوئی بھی ایسی ''چولی'' یا ایسی ''اوٹ پٹانگ بات'' جو باوجود کوشش کے کسی کے باپ کی سمجھ میں نہ آئے، اور لکھنے والا پوری ڈھٹائی سے اسے شعر کہلوانے پر بضد ہو ''فراز کی شاعری'' کہلاتی ہے۔

پس منظر


وسطی ایشیاء میں جو رزمیہ بے ادب رائیج ہے، اس میں کچھ ایسے الفاظ ملتے ہیں۔ ''پونے پندرہویں صدی اے-ڈی (آفٹر ڈائینا سارز) میں ''بنو نسواریہ'' نامی قبیلہ خط مستقیم پر شمال مغرب سے جنوب مشرق کی جانب ہجرت کر رہا تھا۔ اس قبیلے کے سردار کا نام ''کائی ملی شاہ'' تھا جو بچپن (ساڑھے سترہ کڑوڑ سال کی عمر) سے ہی نہایت ہونہار اور ذہین تھا۔ راوی لکھتا ہے کہ ایک رات ''کائی ملی شاہ'' پیٹ میں شدید مڑوڑ کے باعث کسی انجانے خوف کو مد نظر رکھتے ہوئے کھیتوں کی جانب جا رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک پتھر نظر آیا۔ جس میں سے ''ٹوٹوٹوں ٹوٹوٹوں'' کی آواز آرہی تھی۔ چونکہ کیڑے بازی کی عادت ''سردار'' کو وراثت میں ملی تھی اس لیئے سردار نے بلا خوف و خطر اس پتھر کو اٹھا لیا۔ پتھر کے ٹاپ پر ''نوکیا 3310'' لکھا تھا۔ اور اس کے بلکل نیچے ایک چھوٹی سی اسکرین سے ہری روشنی نمودار ہورہی تھی۔ سردار نے اپنی لنگی کی جیب سے ''بی پی'' کی ''بنٹی والا چشمہ'' نکالا اور اسکرین پر لکھی تحریر پڑھنے کی کوشش کی۔ سات گھنٹے کی انتھک جدوجہد کے بعد سردار بلا آخر تحریر پڑھنے میں کامیاب ہوگیا، جو کہ کچھ اس طرح تھی،

''مجھے غریب سمجھ کہ محفل سے نکال دیا گیا فراز
 بعد میں ظالموں نے نرگس بلالی''

''سردار'' کو تحریر بہت پسند آئی۔ اس نے نہ صرف اسے لائک کیا بلکہ اپنی ٹایئم لایئن پر شیئر بھی کیا۔

ارتقائی دور


''سردار'' ''فراز کی شاعری'' سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنے ڈائینا سار ''شرمیلے'' کے پچھواڑے پر بھی یہ شعر کدوایا،

''میں تو رستے سے جا رہا تھا دوست
تجھے مرچی لگی تو میں کیا کروں''

بس یہیں سے فراز کی شاعری کا ارتقائی دور شروع ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پونے پندروہویں صدی اے-ڈی میں کوئی ڈائینا سار ایسا دکھائی نہ دیتا تھا جس پر فراز کا شعر نہ کدوایا گیا ہو۔ یہی فراز کی شاعری کے عروج کا زمانہ تھا۔ وقت بدلتا گیا ڈائینا سار کی جگہ ٹرکوں، ویگنوں، رکشوں اور چنگ چیوں نے لے لی مگر ''فراز کی شاعری'' کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

خصوصیات 


1-''فراز کی شاعری'' کی بنیادی صفت یہ ہے کہ یہ شاعری فراز کی ہوتی ہی نہیں ہے۔

2-''فراز کی شاعری'' کی دوسری پہچان اس کا گھٹیا ہونا ہے، یعنی حقیقتا جو شعر جتنا گھٹیا ہوگا فراز کی شاعری میں اسے اتنا ہی بڑھیا تصور کیا جائے گا۔

3-''فراز کی شاعری'' کی تیسری خاصیت اس کا تخلص فراز ہے، ہر شعر میں (جگہ نہ ہونے کی صورت میں بھی) دھکم پیل کر کے جگہ بنا ہی لی جاتی ہے۔

4-عام حالات میں تخلص ''فراز'' کونسٹینٹ رہتا ہے مگر کبھی کبھی اس کی جگہ ''دوست'' ''اے دوست'' ''جان'' ''جان من'' اور ''بے وفا'' بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مثال

''میں تو رستے سے جا رہا تھا دوست
تجھے مرچی لگی تو میں کیا کروں''

''مسافر تو ہر روز ہی چلتے پھرتے رہتے ہیں اے دوست
مگر منزل پر تو ایک دو ہی پہنچتے ہیں نہ کیوں بھائی''

''ہم تو تمہاری راہ میں پھول لیئے بیٹھے ہیں جان
دیکھو آجاؤ نہ پلیز دیکھو جانو پلیز یار آجاؤ نہ پلیز''

حرف آخر


  • کچھ ناقدین کے نزدیک ''فراز کی شاعری'' خود ساختہ اور تاریخ کی گھٹیا ترین شاعری ہے۔ اور اسی وجہ سے وہ اسے اردو شاعری کا ''بلاتکاری ورژن'' بھی کہتے ہیں۔   مگر ''فراز کی شاعری'' کے حامی اس اعتراض کا جواب کچھ اس طرح دیتے ہیں، ''جلنے والے تیرا منہ بھی کالا''۔ آخر میں تمام ثبوتوں گواہوں اور دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ''فراز کی شاعری'' اردو بے ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ناکام عاشقوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ محبت میں ناکامی ہو یا رشتے کی بندش، ساس سے لفڑا ہو یا مردانہ کمزوری، کالی رنگت ہو یا سٹے میں شکست، ''فراز کی شاعری'' ان تمام صورتوں میں ''عامل جنید بنگالی'' اور ''انعام گھر والے عامر لیاقت'' سے زیادہ مفید ہے۔

2014-01-12

بس کر پگلے رلائے گا کیا؟

آج کا دن ''31 فیبریری'' باقی دنوں سے کچھ مختلف ہی تھا۔ میری دائیں آنکھ پھڑپھڑا رہی تھی بائیں بغل میں کھجلی ہو رہی تھی اور پڑوسیوں کا کتا زور زور سے بھونک رہا تھا (غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ٹی وی پہ ٹاک شو چل رہا ہے)۔ آج میں خلاف توقع پانچ منٹ پہلے ہی اٹھ گیا تھا اس لئے گیلے کپڑے سے منہ پونچھنے کا ٹائم بھی مل گیا تھا اور میرا موڈ بھی کافی خوشگوار تھا اتنا خوشگورا جتنا کہ عموما ''14 فیبریری'' کو ہوتا ہے۔

آفس جانے کے لیئے گھر سے نکلا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی ''ٹڑاڑن ٹن ٹڑاڑن ٹن ٹڑاڑن ٹن''۔ یہ میرے ''منحوس الاقسام'' دوست ''نامعلوم'' کی کال تھی۔ گو اس کے منہ سے کبھی کوئی خیر کی بات سنی تو نہ تھی مگر پھر بھی میرے اندر سے آواز آئی کہ اٹھالے۔

نامعلوم نے مجھے بتایا کہ آج ہڑتال ہے یعنی کہ چھٹی، یاہو!!! اب مجھے اپنی بائیں بغل میں کجھلی کا مطلب سمجھ آگیا تھا اور شائد پڑوسیوں کا کتا بھی یہ ہی بھونک رہا تھا۔ مگر میں سنتا کب ہوں ان کتوں کی۔ نامعلوم نے مجھے اپنے گھر انوائٹ کیا تو میں اس کے گھر کی طرف ہو لیا۔

رسمی بات چیت کے بعد ملک کی ''بڑی نازک صورت حال'' پر بھی گفتگو ہوی۔
چائے کے ''چسکے'' لگاتے ہوئے نامعلوم نے کہا بس یار اس قوم کو قدر ہی  
نہیں ہے اپنے محسنوں (مشرف اور اس کے حواریوں) کی۔ اب دیکھو
پرویز مشرف ''صاحب'' کے دور میں ڈالر کی قیمت کیا تھی اور اب کیا ہے،
پیٹرول کی قیمت تب کیا تھی اور اب کیا ہے، معیشت مظبوط تھی ان کے دور میں بیروزگاری نہیں تھی(واضح رہے موصوف
 کی کچھ دن پہلے ہی سات ہزار روپے /مہینہ کی جاب لگی ہے)۔  نامعلوم کے بیروزگاری والے جملہ سے میری آنکھیں کھل گئی تھیں ضمیر جاگ گیا تھا (اور پتہ نہیں کیا کیا)۔  نامعلوم نے کراچی میں چائنہ کٹنگ کو بھی مشرف کے کارناموں میں گنوایا تو زبان کی برجستگی نے کام دکھادیا''اچھا ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا''۔  جس بندے نے گیارہ سال تک ملک کی (بلا وجہ) خدمت کی اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہ ملک ہمارے
 آبا ؤ اجداد نے بنایا تھا اور ہم یہ کام دوبارہ بھی کر سکتے ہیں (غالبا پاکستان-2 کی طرف اشارہ تھا)۔  نامعلوم محاجروں کے غم میں گھلا جا رہا تھا اور میں پکا جا رہا تھا۔ میں نے نامعلوم کو اتنا جذباتی آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ نا معلوم کا اصرار تھا کہ ''روٹی شوٹی کھا کر جانا'' مگر میں اتنی جزباتی تقریر کی تاب نہ لا سکا، میری آنکھوں میں آنسو چھلک پڑے تھے لہذٰا میں وہاں سے یہ تاریخی جملہ ''بس کر پگلے رلائے گا کیا؟'' کہہ کر کٹ لیا۔

 گھر پھنچ کر میں نے نوافل ادا کئیے اور خدا کا شکر ادا کیا کہ میرا صرف ڈیڑھ گھنٹا ویسٹ ہوا ہے، ورنہ لوگوں نے تو اس راہ میں سات سات گھنٹے کی پریس کانفرںسیں بغیر ''پوا'' چڑھائے کیں، بغیر ہنسے سنیں، اور بغیر ڈینٹونک کا اشتہار چلائے نشر کی ہیں۔