سرچنا نہی!

تلاش کے نتائج

‏نظریات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏نظریات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

2014-05-12

ہمارا تعلیمی نظام اور غلامانہ ذہنیت

برصغیر پاک و ہند میں انگریز کی آمد نے سیاست کے ساتھ ساتھ مذہب اور تعلیم کو بھی متاثر کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو سیاسی میدان میں ایسٹ اینڈیا کمپنی، مذہبی حوالے سے دین اکبری، نام نہاد تصوف اور صوفی ازم کے ذریئعے اور تعلیمی میدان میں لارڈ میکالے اینڈ کمپنی کے ذریئعے نقصان پونہچایا گیا ہے تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔ یہاں لارڈ میکالے کے ساتھ لفظ کمپنی لگانے کی ضرورت اس لیئے پیش آئی کہ لارڈ کے آگے پیچھے اوہ مائی لارڈ اوہ مائی لارڈ کرنے والے اور اسے کمپنی دینے والوں میں اپنے ہی بڑے بڑے نام شامل تھے۔

گورا سامراج نے بر صغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی جس کی اپنی باقاعدہ فوج تھی کے ذریعے سولہویں صدی میں ملکہ ازبتھ اول کے دور میں قدم رکھا اور مصنوعی غذائی قلت پیدا کرکہ خوب نفع کمایا درآمدات اور برآمدات کو کنٹرول کرکہ یہاں کی معیشت کو جکڑ لیا۔ اور رفتہ رفتہ پورے ملک پر قابض ہوگیا۔

موجودہ دور میں بہترین حمکت عملی وہی تصور کی جاتی ہے جس میں جنگ کیئے بغیر ہی مقاصد حاصل کرلیئے جائیں اور اس مقصد کے لیئے تعلیم سے بہتر اور کون سا میدان ہوسکتا ہے۔ لہذاٰ گوارا سامراج نے خطے میں اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیئے یہ ذمہ داری لارڈ میکالے کو سونپی جس نے چار سال کے قلیل عرصے میں ہندوستان کے کونے کونے کا دورہ کیا اور پھر 2 مئی 1835 کو ہاؤس آف لارڈز میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ تاریخی الفاظ کہے '' میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کو توڑ نہ دیں جو انکی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔ کیونکہ اگر ہندوستانی لوگ یہ سمجھیں کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شئے ان کی اپنی اشیاء سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے اور حقیقتاً ویسی ہی مغلوب قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں''

تاہم وائیسرائے ہند لارڈ مینٹو نے مذہبی تعلیم سے دوری کے لیئے ایک کمیٹی قائیم کی جس کی سفارش پر تعلیم کے لیئے اس وقت کے ایک لاکھ ہندوستانی روپے سالانہ کی منظوری دی گئی۔ اس قانون کا سب سے زیادہ فائیدہ عیسائی مبلغین کو ہوا۔ جو انگریزی کی آڑ میں عیسائیت کی تعلیم دیتے رہے۔ کلکتہ کا اینگلو انڈئین کالج بنارس کا جے نرائین کالج اور آگرہ کالج وغیرہ ان میں سر فہرست رہے۔ جب کے آج بھی پاکستان میں انگریزی کے نصاب میں وہ اسباق شامل ہیں جن میں باقاعہ عیسائیت کی تبلیغ کی گئی ہے۔ ان اسباق میں ''روڈ ڑو دا ایسٹ''، ''مسٹر چپس''، ''اولڈ مین اینڈ دا سٹی(بی اے)''، شامل ہیں۔ اسی طرح ''ریڈ شوز'' نامی سبق میں گرجا گھر کی عظمت بیان کی گئی ہے۔

گورا سامراج یہ بات اچھی طرح سمجھتا تھا کہ انگریزوں نے چونکہ اقتدار مسلمانوں سے ہی چھینا ہے اس لیئے بغاوت کا اندیشہ بھی مسلمانوں کی ہی جانب سے تھا۔ ہندوؤں کے لیئے تو یہ محض آقا اور زبان کی تبدیلی ہے، ہندو پہلے فارسی اور سنسکرت سیکھ کر ملازمتیں حاصل کرتے تھے اب انگریزی سیکھ کر کرنے لگے۔ اس بات کا اعتراف خود انگریز تاریخ دان بھی کرتے ہیں۔ ''ولیم ولسن ہنٹر'' لکھتا ہے ''حقیقت یہ ہے کہ ہمارا طریقہ تعلیم جس نے ہندوؤں کو ان کی صدیوں کی نیند سے جگایا اور ان کے کاہل عوم میں قومیت کے شریفانہ جذبات پیدا کردیئے، مسلمانوں کی روایات کے بلکل خلاف اور ان کی ضروریات کے غیر مطابق ہے بلکہ ان کے مذہب کی تحقیر ہے'' (از ولیم ولسن ہنٹر، آئی سی ایس آفیسر بنگال، مترجم ڈاکٹر صادق حسین، صفحہ نمبر 334)۔

اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک طبقہ فکر نے اس نطام کو قبول کرنے میں زرا بھی دیر نہی لگائی اور نہ صرف نظام کو قبول کیا بلکہ شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری میں نظام کی وکالت بھی کی۔ اس نظام کے حق میں سرسید نے جو تمہیدی کلمات باندھے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ سرسید کہتے ہیں '' ہم صاف صاف کہنا چاہتے ہیں کہ ہم کو مشرقی ترقی کے علوم میں پھنسانا ہندوستانیوں کے ساتھ نیکی کرنا نہیں ہے بلکہ دھوکے میں ڈالنا ہے'' سرسید نے صرف اس پر ہی اکتفاء نہ کیا بلکہ وہ لارڈ کے سحر میں ایسے گرفتار ہوئے کہ اللہ تعالی کے واضح احکامات کو پس پشت ڈال کر کہتے ہیں ؛؛ہم لارڈ میکالے کو دعا دیتے ہیں کہ خدا اس کو بہشت نصیب کرے کہ اس نے دھوکہ کی ٹٹی کو اٹھا دیا تھا''

زبان علوم فنون سیکھنے اور اس کے ابلاغ کا ذریئعہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے اپنی قوم کو اسی ہی کی زبان میں تعلیم دی اور احکامات الہیٰ کی تبلیغ کی۔ یہ ایک آفاقی خدائی اور پیغمبری اصول ہے کہ تعلیم و تدریس لوگوں کی مقامی زبان میں ہی کی جائے اور جب اس آفاقی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو لارڈ میکالے کے مقاصد کی تکمیل شروع ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ہندوستان میں ہوا جہاں لارڈ میکالے کے نظام نے جلد ہی رنگ دکھانے شروع کردیئے اور نتیجتا سرسید کے وہ رفقاء جنہوں نے علی گڑھ میں
ان کے ساتھ کام کیا تھا وہ بھی اس نظام سے بدظن ہوگئے۔



علامہ شبلی، مولوی محمد سمیع کے نام اپنے خط میں لکھتے
ہیں ''معلوم ہوا کہ انگریزی خواں فرقہ نہایت مہمل فرقہ ہے، مذہب کو جانے دو خیالات کی آزادی، بلند ہمتی، ترقی کا جوش برائے نام نہیں آتا، بس خالی کوٹ پتلونوں کی نمائیش گاہ ہے''

مولوی عبدلاحق بلوچستان ٹیچرز ایسوسی ایشن سے خطاب میں کہتے ہیں ''اہل حکومت صاف کہتے تھے کہ ایک قوم کو بزور شمشیر فتح تو کیا جاسکتا ہے لیکن ایسے میں نفرت کم نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھتی ہے اس خطرے سے بچنے کے لیئے ایک ہی تدبیر ہوسکتی ہے کہ اہل ہند کو فاتح تہذیب و تمدن میں ڈھال لیا جائے۔ اور یہ تہذیبی فتح انگریزی زبان کی تعلیم کے ذریئعے ہی ممکن ہے''

بقول مشہور ماہر تعلیم اشتیاق حسین قریشی ''ہمیں اس سے قطعا کوئی تعلق نہیں کہ ہماری اولاد کافر اٹھے گی، بےدین اٹھے گی یا کیا اٹھا گی، ہمیں محض اس چیز سے تعلق ہے کہ جب ہمارا بیٹا کسی انٹرویو میں جائے گا تو انگریزی اس طرح بولے گا کہ انگریز کا وہ جانشین جو کرسی پر موجود ہو اس سے مرعوب ہوجائے گا''

 ''مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مغربی علوم کے ساتھ اسلامیات یا دینیات کی پیوندکاری کو مضر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ایک طرف آپ ایک طالب علم کو تمام دنیوی علوم اس طریقے سے پڑھاتے ہیں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ بے خدا ہے اور خدا کے بغیر چل رہا ہے اور خوب کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ جو علم بھی وہ پڑھتا ہے، اس میں اسے کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوتاکہ اس کارخانہ دنیا میں یا کارخانہ زندگی میں کہیں خدا کا کوئی مقام ہے، کہیں رسول کامقام ہے، کہیں وحی کی حاجت ہے! سارے کے سارے نظامِ زندگی کو وہ اسی نکتہ نظر سے دیکھتا ہے!!

اس کے بعد یکایک آپ اسے دینیات کی کلاس میں لے جاکر اس کو بتاتے ہیں کہ خدا بھی ہے، رسول بھی ہے، وحی بھی آتی ہے اور کتابیں بھی آتی ہیں۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ دنیا کے مجموعی تصور سے الگ اور بالکل بے تعلق کرکے یہ اطلاق جو آپ اس کو دے رہے ہیں، اس کو اس مجموعے میں آخر کہاں نصب کرے گا؟ کس طرح آپ کو طالب علم سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ کائنات اور زندگی کے بے خدا تصور کے ساتھ، دینیات کی یہ پوٹلی جو آپ الگ سے اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، اسے وہ کھول کر روز کے روز اپنے دوسرے اجزاے علم کے ساتھ ترکیب دیتا رہے گا اور خود بخود اپنے ذہن میں ایک باخدا تصور مرتب کرتا رہے گا؟"

پھر اس نظامِ تعلیم کے بارے میں خود قائداعظم نے یہ بات کہی تھی کہ

"ہمارے نظامِ تعلیم میں عرفانِ خدا کا تصور نہیں، منزلِ مقصود متعین نہیں اور معنوی بصیرت کا سرے سے فقدان ہے۔" (ہمارا نظامِ تعلیم از پروفیسر سعید اختر: صفحہ ۱۱۴،۱۱۵)

آخر کیا وجہ ہے کہ آج بھی ملک عزیز میں وہ طبقہ فکر نظر آتا ہے جسے خود کومسلمان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے، جسے تاریخ اسلام میں فقط صحابہ کرام کے اختلافات اور جنگ و جدل نظر آتا ہے، اسلامی قوانین ظلم و جبر معلوم ہوتے ہیں۔  جبکہ دوسری جانب وہ امریکہ کہ جس نے محض تین دن میں ڈھائی لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اپنا ہیرو گردانتے ہیں، تارخ انسانی کے سب سے مہلک ہتھیاروں کے موجد انہیں اپنے محسن دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خود فریبی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے جس کا آغاز اس خطے میں سرسید نے کیا تھا۔ یہ ذہنی غلامی کا تحفہ بلاشبہ لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام ہی کی دین ہے۔ وہ اس قوم کو جو دینا چاہتا تھا وہ دے کے جا چکا۔ اور ہمارے دانشور آج بھی میکالے کی قبر پر اگر بتیاں لیئے بیٹھے ہیں اور اپنے محسن کی مغفرت کی دعا کر رہے ہیں۔

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہوگا

2014-02-15

جال ہم رنگ زمین

سوشلزم اور کمیونزم 70 برس تک اسلام کے خلاف جنگ میں مصروف رہے۔ یہ جنگ معیشت، معاشرت، سیاست یہاں تک کہ جنگی میدانوں میں بھی لڑی گئی۔ نظریاتی جنگ مشکل ترین جنگ ہوتی ہے اور خاص کر جب، جب عدو کی صف میں بھی اپنے ہی لوگ کھڑے ہوں۔ اس جنگ میں بہت سے مسلمان سوشلزم اور کمیونزم کا صحیح علم نہ رکھنے کے باعث اسلام کے خلاف استعمال ہوئے۔ اس جنگ میں کمیونزم اور سوشلزم کا سب سے بڑا ہتھیار ذرایئع ابلاغ رہا۔ جس کے ذریعے اسلام کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا گیا۔ تاہم اہل اسلام نے سوشلزم اور کمیونزم کو شکست دی۔ اور نہ صرف ان نظریات کا غیر فطری ہونا ثابت کیا بلکہ دلائل کے ساتھ ان نظریات کو انسان کے جسمانی اور روحانی مفادات کا مخالف بھی ثابت کیا۔ اس کے بعد اسلام کو لبرلزم اور سیکولرزم کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام چونکہ ایک مکمّل ضابطہ حیات ہونے اور انسانوں کے تمام دُنیاوی اُمور میں خدا کی حاکمیت کا قائل اور علَم بردار ہے ،اور ''لبرلزم'' اور ''سیکولرزم'' کی تو بنیاد ہی خدا اور حیات بعد الموت سے انکار پر رکھی گئی ہے۔ اس لیے اسلام کے اصل دُشمن ''لبرلزم'' اور ''سیکولرزم'' ہی ہیں۔

مسلمانوں کی اکثریت ''لبرلزم'' اور ''سیکولرزم'' کو بھی صحیح طور سے نہیں سمجھتی اس لیئے ان کی سوچ پروپیگنڈے کی نذر ہوجاتی ہے۔ ''لبرلزم'' اور ''سیکولرزم'' کے علمبردار مسلامانوں کو ایک دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ، رسول، قرآن اور اسلام کا نام لیتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ سے بدکتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال آپ کسی بھی وقت کسی بھی ٹاک شو میں دیکھ سکتے ہیں  جہاں ایک سے ایک شرابی کبابی بیٹھا یہی راگ الاپ رہا ہو گا کہ ''شریعت کو تو سب مانتے ہیں''۔ ان کے مطابق ایک آدمی بیک وقت مسلمان اور ''سیکولر'' یا ''لبرل'' ہو سکتا ہے۔ جب کہ اسلام تقاضہ کرتا ہے کہ ''دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ''۔ یہ لوگ مسلمانوں میں موجود کالی بھیڑیں ہیں جو سیاسی ، ادبی، صحافتی اور ثقافتی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہوئے ذرائع ابلاغ اور حکومتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت آہستگی اور خاموشی کے ساتھ معاشرے کے تمام شعبوں سے اسلام کو بے دخل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ حضرات مسلمانوں کے عقائد ،مراسمِ عبودیت اور رسوم و رواج کی نہ صرف یہ کہ مخالفت نہیں کرتے بلکہ خود بھی ان کو اختیار کر کے عوام کو اپنے متعلق پکّے مسلمان ہونے کا تأثّر دیتے ہیں یعنی نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں اور دیگر عبادتیں کرتے ہیں مگر اسلامی قوانین کے نفاذ سے چڑتے ہیں۔

لفظ ''لبرل'' قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ ''لائیبر'' اور پھر ''لائبرالس'' سے ماخوذ ہے۔ جس کا مطلب ''آزاد'' ہے۔  آٹھویں صدی عیسوی تک اس لفظ کا معنی ایک ''آزاد آدمی'' ہی تھا۔ بعد میں یہ لفظ ایک ایسے شخص کے لیے بولا جانے لگا جو فکری طور پر آزاد، تعلیم یافتہ اور کشادہ ذہن کا مالک ہو۔ اٹھارہویں صدی عیسوی اور اس کے بعد اس کے معنوں میں خدا کی تعلیمات سے آزادی بھی شامل کر لی گئی۔ یعنی اب ''لبرل'' سے مراد ایسا شخص لیا جانے لگا جو خدا اور پیغمبروں کی تعلیمات اور مذہبی اقدار کی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتا ہو۔ اور ''لبرلزم'' سے مُراد ایسی آزاد روش پر مبنی وہ فلسفہ سیاست ہوا جس پر کوئی گروہ یا معاشرہ عمل کرے۔

لفظ ''سیکولر'' قدیم لاطینی لفظ ''سیکولارس'' سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ''وقت کے اندر محدود''۔ تحریک احیائے علوم کے دوران یورپ میں خدا کے انسانی زندگی میں دخل کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی تو کہا جانے لگا کہ ''چونکہ خدا وقت کی حدود سے ماورا ہے اور انسان وقت کی حدود سے مقیّد ہے لہٰذا انسانی زندگی کو ''سیکولر'' یعنی ''خدا سے جدا'' ہونا چاہیے۔ اس لفظ کو باقاعدہ اصطلاح کی شکل میں 1846 میں متعارف کروانے والا پہلا شخص برطانوی مصنّف ''جارج جیکب ہولیوک'' تھا۔ اس اصطلاح کے عام ہوجانے کے بعد پہلے ''برطانیہ'' پھر ''یورپ'' اور پھر دُنیا بھر میں سیکولرزم کے معنی یہ ہوئے کہ ’’انسانی زندگی کے دنیا سے متعلق اُمور کا تعلق خدا یا مذہب سے نہیں ہوتا‘‘ اور مزید یہ کہ ’’حکومتی معاملات کا خدا اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ ''سیکولرازم'' کی اس تعریف پر دنیا بھر کے سیکولرز کا اتفاق ہے۔ یورپ میں مذہب بے زاری خدا کے انکا ر اور انسان کو بندر کی اولادسمجھنے تک جا پہنچی۔ اب یورپ میں یہ فکر جنم لینی لگی کہ: انسان اپنی دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ساری جدوجہد کرے۔ تمام انسان بھی عام حیوانوں کی طرح حیوان ہی ہیں۔ لہٰذا اس دنیا میں بقاء محض طاقت ور کو نصیب ہوگی۔ ''چارلس ڈارون'' اور ''ہربرٹ سپنسر'' اس فکر کے علَم بردار تھے۔ اس فکر کے پھیلنے کے بعد یورپی اقوام کمزوراقوام پر ٹوٹ پڑیں۔ مفتوحہ ممالک پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے یورپی اقوام نے وہاں اپنی  ''سیکولر'' اور ''لبرل'' فکر کی ترویج کے لیے کالج اور یونی ورسٹیاں تعمیر کیں۔ اور معاشرت اور معیشت میں اپنی تہذیب اور اپنے تمدّن کو رائج کیا جسے مفتوحہ اقوام نے قبول کیا۔ فاتح اقوام نے رزق کے ذرائع اپنے قائم کردہ ''سیکولر'' تعلیمی اداروں کی اسناد کے ساتھ منسلک کر دیے۔ مفتوحہ اقوام کے نوجوان ان تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ اس طرح یورپ کی خدا اور مذہب سے بغاوت پر مبنی فکر تعلیم کے ذریعے تمام دنیا میں پھیل گئی۔ مسلمان ممالک میں اس مذہبی اور غیر مذہبی کی تقسیم نے ہرطرف انتشار اور فساد پیدا کردیا ہے۔ سیکولر نظامِ تعلیم کے نتیجے میں اللہ رسول اور یوم حساب پر یقین کمزور پڑنے لگا۔ جس سے مادہ پرستی، لذت پرستی، حرص ،ظلم، فحاشی و عریانی، کاروباری ذہنیت، دھوکا دہی، قتل و غارت گری اور بد امنی ہر طرف پھیل چکی ہے۔

چونکہ ''لبرلزم'' کے مقابلے میں ''سیکولرزم'' نسبتاً نرم اصطلاح ہے اس لیئے مسلمانوں میں اس نظریئے کا زیادہ پرچار کیا جاتا ہے۔ تاہم دونوں نظریات میں کوئی زیادہ فرق بھی نہیں۔ یہ کہنا بھی کسی طور غلط نہ ہوگا کہ جو مسلمان بھی ''لبرل'' نظریئے کا پیرو ہوتا ہے وہ کبھی نہ کبھی ''سیکولر'' نظریئے کا ماننے والا رہا ہوتا ہے۔ البتہ مسلمانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد اب تک دینِ اسلام سے وابستہ ہے اور یورپ کی اس فکر کے خلاف ہے۔

اسلام محض عقیدے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو ایک دین یعنی مکمّل نظامِ حیات ہے۔ یہ نظام لگ بھگ بارہ سو برس تک دُنیا کے ایک بڑے حصّے پر غالب ،حاکم اور مقتدر رہا۔ کچھ مسلم حکمران اگرچہ سرکش بھی رہے مگر مسلمان معاشروں میں عدالتیں اسی نظام کے مطابق فیصلے کرتی رہیں۔ بازار میں تجارت اس کے قوانین کے مطابق ہوتی تھی۔ درس گاہوں میں تعلیم اسی کی دی جاتی تھی۔ معاشرت کا پورا نظام اسی کی ہدایات کے مطابق تشکیل پایا تھا اور حکمران اِن اُمور کو اسلام کا اٹوٹ انگ سمجھتے تھے۔ آج بھی دینِ اسلام کی اصل تعلیمات گُم ہوئی ہیں نہ علماء کرام نے کبھی کسی فرد کو دینی معاملات میں خدا اور رسول کے بجاے کُلّی اختیارات کا حامل سمجھا۔ عقلِ جس کے یہ سیکولر اور لبرل حضرات بہت قائل ہیں۔ اسی عقل کا تقاضا ہے کہ جو شخص خدا کو کائنات کا مالک مانتا ہو اسے اس مالک کے احکام کو انسانی زندگی میں بھی ماننا چاہیے۔ اسلامی ممالک میں دینِ اسلام کے دُنیاوی اُمور سے متعلق تعلیمات کے بارے میں جو بے اطمینانی پائی جاتی ہے اس کی وجہ یہی فکر ہے۔ جس کی سخت قسم ''لبرلزم'' اور قدرے نرم قسم ''سیکولرزم'' کہلاتی ہے۔ پاکستان میں سیکولرزم کا نام لیے بغیر بھی بہت سے لوگ ذرائع ابلاغ کو اس کی وکالت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ سیکولر لوگ 11 اگست 1947ء کو کی جانے والی بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی محض ایک تقریر کو بنیاد بناتے ہیں۔ اور اس کی تشریح بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر کرتے ہیں۔ اسلام کے خلاف یہ نظریاتی جنگ ایک طویل عرصے سے لڑی جارہی ہے۔ اس جنگ میں بہت سے لوگ دانستہ اور بہت سے نا دانستہ طور پر اغیار کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ بہت سے ناسمجھ مسلمان صرف شدت پسند نہ کہلوائے جانے کی وجہ سے ان نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔ ان سادہ لوح مسلمانوں کو دین سے بے بہرہ کرنے کے لیئے تعلیمی میدانوں میں بہت کام ہو رہا ہے۔ ذرایع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے دین سے بیذاریت پھیلائی جارہی ہے۔ اسلامی شعار کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ ایسے لوگوں کے نام آپ کو حافظ، قاری، مولانا اور ڈاکٹر کے لاحقوں کے ساتھ ملیں گے.یہ وہ لوگ ہیں جو دوا کی پڑیا میں زہر بیچتے ہیں اور اسلام کے کھلم کھلا دشمنوں سے کئی گنا خطرناک ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کو روکا جائے۔ کیوں کہ یہی وہ نظام ہے جو اگر اپنی روح کے مطابق نافذ ہوگیا تو مادہ پرستوں اور ہوس کے پجاریوں کی دکانیں بند ہو جائیں گی۔

2014-02-09

لکیر کے فقیر

ساحل سمندر پر واقع ایک جھونپڑا تھا اور سورج غروب ہونے والا تھا۔ فضاء میں ایک عجیب سی مایوسی تھی۔ ڈوبتے سورج نے دنیا سے کہا ہے ''کوئی ہے جو میری جگہ لے سکے؟''
طویل سناٹا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 یہ وہ آفتاب تھا جو کچھ وقت پہلے تک اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمکتا تھا۔ اس چڑھتے سورج کی پرستش کی جاتی تھی۔ اس کے خدا ہونے پر عقلی دلائل پیش کیئے جاتے تھے۔ مگر دوسرا طبقہ ایسا بھی تھا جو اس چڑھتے سورج کو خدا ماننے سے انکاری تھا۔ اس ''لکیر کے فقیر'' طبقے پر ان عقلیت پسندوں کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔
بہر حال وقت گزرتا گیا اور سورج کی شان و شوکت میں اضافہ ہوتا گیا۔ دانشوروں کی باتیں سچ ثابت ہوئیں اور دوسرا طبقہ قدامت پرست قرار دیا گیا۔ سورج اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ لیکن قدرت کا قانون ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ ایک طویل عرصہ تک چمکتے دمکتے سورج کو اب زوال پذیر ہونا تھا۔ جو لوگ کل تک اس چڑھتے سورج کے پجاری تھے وہ آج مایوس ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کی مایوسی بڑھتی جا رہی تھی۔ اور پھر غروب کا وقت بھی آن پونہچا۔
ڈوبتے سورج نے سوال کیا ''کوئی ہے جو میری جگہ لے سکے؟''۔ طویل سناٹے کے بعد جھونپڑے کے اندر جلتے ہوئے چراغ نے کہا ''ہاں میں ہوں اگر چہ مجھے کوئی ماننے والا نہیں لیکن مجھے اس کی ضرورت بھی کہاں، میں جلتا رہونگا  اور جس مقام پر بھی رہوں روشنی پھیلاتا رہونگا۔'' کہاں آفتاب اور کہاں یہ چراغ۔
زندگی میں ہر شام سورج غروب ہوتا ہے، ہر شام اندھیرے کی ابتداء ہوتی ہے، اور ہر شام ان سخت اندھیروں کا مقابلہ یہی چھوٹے چھوٹے چراغ کرتے ہیں۔
دنیا میں بڑے بڑے نظریات اور فلسفوں نے جنم لیا۔ کتنے ہی بڑے بڑے عاقل، دانشور، اور فلسفی گزرے ہیں۔ وقتی طور پر لینن کو بھی بڑی پزیرائی ملی اور چرچل کو بھی۔ ہر دور کے دانشوروں نے ان نظریات کے کے حق میں بڑی بڑی تمحیدیں باندھیں اور انجام، وہی زوال۔ تاریخ میں ایسے کتنے ہی چڑھتے سورج گزرے ہیں اور نہ جانے کتنے اور گزریں گے۔ مگر ہر دور میں کچھ نہ کچھ چراغ ایسے ضرور رہے ہیں جو خود جلتے رہے مگر دوسروں تک روشنی پہنچاتے رہے۔ یہ وہی ''لکیر کا فقیر'' طبقہ ہے جس پر کسی لینن اور کسی چرچل کا جادو نہ چل سکا، یہ وہی لکیر کا فقیر طبقہ ہے جو کسی کمیونسٹ، کیپیٹلسٹ، سیکولر اور لبرل نظریئے سے مرعوب نہیں ہوا۔ ان تمام نظریات کے جواب میں اس ''لکیر کے فقیر'' طبقے کا نظریہ ہمیشہ بس یہی رہا ہے کہ ''ال حکم الاللہ'' ''قانون ہے تو بس اللہ کا قانون''۔

2014-01-27

سقوط در سقوط ۔ ۔ ۔ ۔

سقوط  در سقوط ۔ ۔ ۔ ۔
کہتے ہیں کہ جب ہلاکو خان مسلمانوں پر حملے کے لیئے لشکر تیار کر رہا تھا ۔تو مسلمان قران کے مخلوق ہونے پر بحث میں مصروف تھے۔
نومبر 2013 میں جب ایسا نظر آنے لگا تھا ۔کہ تحریک طالبان اور ریاست پاکستان کے درمیان مزاکرات کا آغاز ہونے والا ہے ۔ایسے میں سرتاج عزیز کی زبان پھسلی۔ اور وہ یہ کہہ گئے کہ امریکا نے انہیں ڈرون حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،۔بس پھر کیا تھا صاحب بہادر کی غیرت کو ابال آیا ۔اور دیا ایک ٹکا کہ سرتاج عزیز کی ناک کے نیچے۔ لو کرلو مذاکرات! ۔یہ ڈرون  حملہ بھی ایک مدرسے پہ کیا گیا تھا ۔جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔(شہید لکھنے پر امداد بند ہونے کا خدشہ تھا۔)   48 گھنٹوں بعد ملک کا وزیر داخلہ ہوش میں آتا ہے ۔اور بیان دیتا ہے کہ ہمیں ڈالروں اور عزت نفس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ سوچنا کیا جی۔   ہوگیا انتخاب۔ 25 نورے کے 25 شیدے کے  5،5  ا ن قلم کاروں کے۔
 بقول شخصے“ : ۔یہ عزت تو آنی جانی ہے۔ اس عزت کی کوئی بات نہیں۔”
کچھ بے وقوف لوگ۔ نیٹو سپلا ئی روک کہ بیٹھ گئے ۔بھلا بتاؤ اس سے امریکہ پہ کیا اثر کرنا پڑنا۔ میڈیا ایسے دھاڑیں مار رہا تھا۔ جیسے گاڑی کے نیچے سوئے ہوئے کتے کو پتھر مار دیا ہو۔ دیکھو یہ دھرنے ورنے کسی مسلئے کا حل نہیں ہوتے۔ تمہاری وجہ سے عام آدمی کے بچے رکشے میں پیدا ہو رہے ہیں۔ عام آدمی بھی وزیرستانیوں کو کوسنے لگا۔ کیونکہ اُسے تو  ''پکچر''  میں دیکھا یاہی یہ گیا تھا۔ وزیرستان تو ہے ہی دہشتگردوں کی فیکٹری۔انہیں تو مرنے مارنے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے ۔کہ قیام پاکستان سے امریکی مداخلت تک یہاں مثالی امن قائم رہا۔ پاکستان کے لیئے سب سے زیادہ قربانیاں یہیں کے لوگوں نے دیں۔ تاہم ان کی ہمت شجاعت پر بھی کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ 1701 میں مغلوں سے جنگ ہو۔ یا ۔1893 میں فرنگی استعمار سے ۔جب محی الدین محسود المعروف  ''ملا پاؤندہ''  نے وزیر، محسود، بنگش، مہمند اور دیگر قبائل سے مل کر فرنگیوں کو اس علاقے سے باہر نکال دیا۔ 1938 تک یہ خطہ فرنگی سامراج کے لیئے قبرستان ثابت ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ” دی گریٹ ایمپائر“ برطانیہ جس کو اس بات پر غرور تھا ۔کہ اس کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا ۔پورے برصغیر پر حکومت کرتا رہا ۔مگر اس چھوٹے سے علاقے پر  حکومت نہ کرسکا۔ پرویز مشرف نے اس علاقے میں۔ افواج یہ کہہ کر بھجوایئں ۔کہ یہ پانچ چھ سو عسکریت پسند ہیں ۔اور دس سال بعد  بھی جیٹ طیارے وہاں آگ برسا رہے ہیں۔ تو آج بھی ہمارے دانشور ان ۔عسکریت پسندوں کی تعداد پانچ چھ سو ہی بتاتے ہیں۔ پڑوسی اسلامی ملک پر حملے کے لیئے ۔ہم نے استعماری قوتوں کے بازو مظبوط کیئے۔ اور جواز ”قومی مفاد“ اور ”ملکی سلامتی“ کو بنایا۔ جب تک یہ حملے افغانستان اور عراق میں ہو رہے تھے۔ تو ہم اپنی ”قومی سلامتی“ کا جشن منا رہے تھے ۔اور آج جب یہ آگ اپنے گھر تک پہنچ گئی تو چلاتے پھرتے ہیں۔
بقول اقبال: ”ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے“۔
بنگلہ دیش کاسانحہ سب کے سامنے ہے۔ بلوچ قوم پرستی اپنے عروج پر ہے۔ سندھ کے قوم پرست ایک دن میں 38 کریکر حملے کرتے ہیں۔ اور ڈیونڈ رلائن  کا معاملہ بھی کب شدت اختیار کر جائے ؟۔کچھ پتہ نہیں۔ بہر حال یہاں ہر طبقہ فکر کی جیب میں۔ دو لسٹیں لازمی ملیں گی۔ ایک ”شہید“ کی اور دوسری”ہلاک“ کی۔ دکانداری کے لیئے اس سے اچھا موضوع بھی کوئی نہیں۔
کہتے ہیں کہ جب ہلاکو خان مسلمانوں پر حملے کے لیئے لشکر تیار کر رہا تھا۔ تو مسلمان قران کے مخلوق ہونے پر بحث میں مصروف تھے۔